سوتیلی ماں کا ظلم۔یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے




سوتیلی ماں کا ظلم

پڑھ بسم اللہ پاک خدا کا نام زبان پہ لاؤں
بعد درود نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم)پر لاکھ بار پہنچاؤں
سوتیلی ماں کے ظلم کی کہانی یہ سناؤں

یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

واقعہ تو البتہ ہے یہ آٹھ سال پرانا
رنگ پور بنگال جہاں کا حال ہے یہ بتلانا
محبوب نام کا چودھری وہاں پر تھا جانا پہنچانا

یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

جائیداد تھی کافی کاروبار زمین کا سارا
 محبوب بھی تھا اکلوتا بیٹا ماں باپ کا پیارا
 تبھی تو عیش اڑاتا تھا ان کی آنکھ کا تارا


:یہ بھی پڑھیں
""وفادار کتا""


یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

محبوب جوان ہوا تو ماں باپ نے بیاہ رچایا 
شادی ہوئی ایک سال بعد ماں باپ کا اٹھ گیا سایہ
سنبھلنا پڑ گیا اس کو کاروبار اور سرمایہ
کہا بیوی نے بھول جاؤ سب غم اور گزرا
ماضی
میاں بیوی رہنے لگے ہنسی خوشی اور راضی
چاند سا بیٹا پیدا ہوا اللہ کی کرم نوازی

یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

تقدیر کے آگے کسی کا کوئی بس نہیں ہے چلتا 
بیمار ہوگئی بیوی، رہ گیا باغ پھولتا پھلتا
کافی علاج کرایا، رہ گیا چوہدری ہاتھ ہی ملتا

یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

اک دن بیوی بولی مجھ کو موت نظر ہے آتی
مر کر بچہ چھوڑ جاؤں گی گود تھی جسے اٹھاتی
جس کے ساتھ پیار تھی کرتی ہنستی اور ہنساتی 

یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

دوسری شادی نہ کروانا تم کو میں سمجھاؤں 
سوتیلی مائیں ظلم ہیں کرتی کیا کیا میں بتلاؤں
دو سال کے بیٹے کی تم بن کر رہنا چھاؤں
بیوی ہوگی فوت محبوب نے اسکی بات بھلا دی
ڈیڑھ مہینے بعد اس نے کر لی دوسری شادی
جس کی وجہ سے گھر میں دیکھنا کیوں نکر ہوئی بربادی
یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

محبوب اٹھاتا بیٹے کو جب دیکھ وہ نہ سہتی
اکیلا پا کے لڑکے کو ہر وقت جھڑکتی رہتی
ذبح ہی کر دوں کیوں نہ اس کو دل ہی دل میں کہتی

یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

چوہدری کو وہ کہنے لگی سنیئے بات ہماری 
نوکر چاکر کھاجاتے ہیں آمدنی باری باری
اس لیے سارے کام کی خود سنبھالیں ذمہ داری

 یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

 دوسری بات بھی میری ہے یہ غور سے سننے والی
لڑکا ہو گیا 4 سال کا چھوڑ اس کی رکھوالی
اس کے بغیر کیا رکھ نہیں سکتا اپنے گود کو خالی
ایک دن محبوب ہل چلا کر گھر کو آیا
لڑکے کو پیار سے اس نے گود میں جب اٹھایا
بیوی نے جب دیکھا تو اس بات کا برا منایا

یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

حسد سے جل کر کوئلہ ہوگئی آنکھیں پھاڑ دکھائے
میری بچی کو تویہ گود کبھی نہ اٹھائے
اس کمبخت کو پھرتا ہے کہ سینے سے لگائے

یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

 دوسرے دن چوہدری اپنے کام پر ہوا روانہ
سوتیلی ماں نے بچے کو اٹھایا کر کے بہانہ
چھری کے ساتھ ذبح کر ڈالا جیسے تھا بیگانہ

یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

ہاتھ اور پاؤں کاٹ کر زمین میں پھر دبائے
ان کے اوپر گوبر کے اوپلے تھے بنائے
اتنے میں محبوب بھی کام سے فارغ ہو کر آئے
مویشی باندھ کے بیٹے کو لگا آوازیں دینے
بیوی بولی کھیلنے یاوہ چیز گیا کوئی لینے
جلدی کھانا کھا لو تم، شہر ہے جانا میں نے

یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

کہامحبوب نے ابھی تو میں نے جاکر ہے نہانا
اتنی دیر میں میرے بیٹے نے بھی کھیل کر آنا
دونوں مل کر کھائیں گے اکٹھے بیٹھ کے کھانا

یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

بیوی نے اصرار کیا کھانا جلدی کھاؤ
گوشت بچےکا پکڑایا لو فارغ ہو جاؤ
ٹھنڈا ہو گیا گوشت تو پھر کہنا نہ تپاؤ

یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

لقمہ ابھی محبوب نے اپنے ہاتھ میں تھا اٹھایا
اللہ پاک نے فورا اپنا معجزا ایک دکھایا
مکان کی چھت سے برتن میں زہریلا سانپ  گرایا
پھرتی سے پھر صحن میں جاکرسانپ کو اس نے مارا
پریشان سا ہو کر پھر وہ بیٹھ گیا بے چارہ
 بیٹے کو بلا کر لاؤں یہ ارادہ دھارا

یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

محبوب برآمدے سے نکل کر جب صحن میں آیا
دیکھا کیا سر بچے کا تھا کتے نے اٹھایا
اس طرف کو ہو لیا جہاں سے کتا تھا لایا

یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

سوتیلی ماں نے بچے کے تھے ٹکڑے جہاں دبائے
ٹانگیں بازو وہاں سے کتے تھے نکال کے لائے
باپ نے جب یہ دیکھا تو چیخے اور چلائے
یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

غش کے بعد ہوش آیا تو رو رو بات دہراتا
نہ میں دوسری شادی کرتا نہ دکھ اٹھاتا
چاند سا پیارا بیٹا یوں بہ ہاتھوں سے گنواتا

یہ تو ایسی دردناک ہے کہانی کہ پڑھ کر دل کانپ جائے

Post a Comment

Yahan Comments Karein

Previous Post Next Post