علم کا صحیح استعمال


ایک بڑے بحری جہاز کا انجن خراب ہو گیا۔ جہاز کے مالکان نے ایک سے بڑھ کر ایک کاریگر سے رابطہ کیا لیکن انجن میں خرابی کا پتہ نہ چلایا جا سکا۔

کسی نے ایک بوڑھے ایکسپرٹ کا بتایا جو عرصہ دراز سے جہاز کے انجن کی مرمت کرتا آرہا تھا اور اپنے کام کا ماہر تھا۔

بوڑھے کاریگر سے رابطہ کیا گیا، مقررہ وقت پر بوڑھا کاریگر اپنے اوزاروں کے تھیلے کے ساتھ موقع پر پہنچ کر فوراً کام پر جت گیا۔

اس نے انجن کا اوپر سے نیچے بغور معائنہ کیا۔ موقع پر موجود جہاز کے دو مالکان، یہ سوچ کر بوڑھے شخص کی حرکات و سکنات کا مشاہدہ کر رہے تھے کہ وہ انجن میں خرابی کا پتہ لگا لے گا۔

انجن کا جائزہ لینے کے بعد، بوڑھا کاریگر اپنے اوزاروں کے تھیلے کے پاس پہنچا اور ایک چھوٹا سا ہتھوڑا نکالا۔

بوڑھے کاریگر نے ہتھوڑے کی مدد سےانجن پر ایک مخصوص جگہ آہستگی سے ضرب لگانے کے بعد اسے واپس تھیلے میں ڈال دیا۔ حیرانگی کی بات یہ کہ انجن سٹارٹ ہوچکا تھا۔

ایک ہفتے بعد جہاز مالکان کو بوڑھے کاریگر کی طرف سے دس ہزار ڈالر کا بل ملا۔

کیا ۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟؟؟ دس ہزار ڈالر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مالکان نےحیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ " بوڑھے نے تو بمشکل ہی کچھ کیا ہے ! "

چنانچہ جہاز مالکان نے بوڑھے کاریگر کو ایک نوٹ لکھ کر بھیجا کہ " مہربانی فرما کر تفصیلاً بل ارسال کریں "

بوڑھے کاریگر نے جواباً جو بل بھیجا اس کی تفصیل کچھ یوں تھی۔

" ہتھوڑے کے ساتھ ضرب لگانے کا بل مبلغ دو ڈالر جبکہ ضرب لگانی کہاں ہے، اس علم کے مبلغ نو ہزار نو سو اٹھانوے ڈالر "

اوپر بیان کردہ صورتحال سے نکلنے والا نتیجہ کچھ یوں ہے۔

محنت اور کوشش کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن یہ کوشش کب، کہاں اور کیسے کرنی ہے، یہی وہ علم ہے جو ہمیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے

Post a Comment

Yahan Comments Karein

Previous Post Next Post