مزاحیہ شاعری

No title

عشق میں یہ انجام پایا ہے ہاتھ پاؤں ٹوٹے منہ سے خون آیا ہے ہسپتال پہنچے تو نرسوں نے فرمایا ہے بہاروں پهول برسا…

No title

دیکھیے جی عاشقوں کو ایسے تڑپاتے نہیں طالبِ دیدار کو کالوں پہ ٹرخاتے نہیں چار سالوں سے جہاں ہم آپ کو تاڑا کیے …

No title

نیٹ ایجاد ہوا ہجر کے ماروں کے لیے سرچ انجن ہے بڑی چیز کنواروں کے لیے ﺟﺲ ﮐﻮ ﺻﺪﻣﮧ ﺷﺐ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﺎﻡ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﮯ …

No title

میری اداسی بھی کنواری ہے تیرا خوف بھی چھڑا ہے تو پھر کیوں نہ دونوں کا نکاح کر دیں میری اداسی کا جہیز تیار ہے …

No title

حسنِ جاناں میں جو انجانا سحر لگتا ہے کچھ نہ کچھ خوبیِ میک اپ کا اثر لگتا ہے اس کا چہرہ ہے ذرا گول "ڈبل ر…

No title

تجاوز کر جائے تحریرِ تنہائی حاشیوں سے تو لیتے ہیں سیلفی ہم ہر اک ممکن زاویوں سے

No title

اگر کسی ڈاکٹر کو شاعری کا شوق پیدا ہوجائے تو کس طرح کے اشعار منظر عام پر آئیں گے ۔ ۔ ملاحظہ فرمائیے .,. چلو …

Load More
That is All