انوکھا گاؤں


انوکھا گاؤں
کیربیئن جزائر کے ایک دور دراز گاؤں میں لڑکیاں جیسے ہی بلوغت کی عمر کو پہنچتی ہیں اُن کی جنس تبدیل ہوجاتی ہے۔

ایک جینیاتی بیماری کے باعث ڈومینیکن ری پبلک کے گاؤں سالیناس میں پیدا ہونے والی 90 فیصد لڑکیاں 12 سال کی عمر میں لڑکا بن جاتی ہیں۔ سالیناس میں لڑکی سے لڑکا بننے والوں کو مرد اور عورت کے ساتھ تیسری جنس کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یہ نایاب بیماری ایک انزائم کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے، جس میں رحم میں مردانہ ہارمونز dihydro-testosterone کا بننا رک جاتا ہے۔ ایسے بچے جب پیدا ہوتے ہیں تو وہ لڑکیوں کی طرح ہوتے ہیں، لیکن بلوغت کی عمر تک پہنچنے پر اُن میں یہ ہارمونز بن جاتے ہیں۔ ایسے مردوں کو Machihembras بھی کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے ‘پہلے عورت پھر مرد’۔

Post a Comment

Yahan Comments Karein

Previous Post Next Post