صحیح بخاری حدیث نمبر 2





Narrated by Aisha (r.a), the mother of the believers, "Al-Harith bin Hisham asked Allah's Messenger (s.a.w), 'O Allah's Messenger! How is the Divine Revelation revealed to you?' Allah's Messenger (s.a.w) replied, 'Sometimes it is like the ringing of a bell, this form of Revelation is the hardest of all and then this state passes off after I have grasped what has been revealed. Sometimes the angel comes in the form of a man and talks to me and I grasp whatever he says.'" Aisha (r.a) added, "Verily I saw the Prophet being inspired on a very cold day and noticed the sweat dropping from his forehead (after the Revelation was over)."
حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حارث بن ہشام نے رسول اللہﷺ سے پوچھا "یا رسول اللہﷺ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے" رسول اللہﷺ نے فرمایا: "کبھی تو وحی نازل ہوتے وقت گھنٹی بجنے کی آواز محسوس ہوتی ہے اور یہ وحی مجھ پربہت سخت گزرتی ہے، پھر جب یہ سلسلہ منقطع ہوتا ہے تو وہ ساری بات مجھے یاد ہو جاتی ہے، اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں مجھ سے بات کرتا ہے اور میں اسے یاد کر لیتا ہوں" اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ پر سخت سردی میں وحی نازل ہوتے دیکھا کہ آپﷺ کی پیشانی پسینے سے شرابور ہو جاتی تھی۔

Post a Comment

Yahan Comments Karein

Previous Post Next Post