نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں بس اسی بات سے گھرمیں میرے رحمت ہو گی


نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
بس اسی بات سے گھرمیں میرے رحمت ہو گی

اک تیرا نام وسیلہ ہے میرا 
رنج و غم میں بھی اسی نام سے راحت ہو گی

یہ سناہے کہ بہت قبر اندھیری ہوگی 
قبر کا خوف نہ رکھنا لوگووہاں سرکاؐر کے چہرے کی زیارت ہوگی

کبھی یٰسیں کبھی طٰہٰ کبھی وَالَّیل آیا 
جس کی قسمیں میرا رب کھاتا ہے کتنی دلکش میرے محبوؐب کی صورت ہوگی

ان کو مختار بنایا میرے اللہ نے
خلد میں بس وہی جا سکتا ہے جس کو حسنینؓ کے باباؐ کی اجازت ہو گی

حشر کا دن بھی عجب دیکھنے والا ہو گا 
زلف لہراتے وہ جب آئیں گے پھر قیامت پے بھی خود ایک قیامت ہوگی

میرا دامن تو گناہوں سے بھرا ہے الطافؔ 
اک سہارا ہے کہ میں تیراہوں اسی نسبت سے سر حشر شفاعت  ہو گی

Post a Comment

Yahan Comments Karein

Previous Post Next Post