ہم وہ آخری لوگ ہیں



1950 سے 1999 میں پیدا ہونے والے ہم خوش نصیب لوگ ہیں.

کیونکہ ہم وہ آخری لوگ ہیں 
جنہوں نے مٹی کے بنے گھروں میں بیٹھ کر پریوں کی کہانیاں سنیں۔

ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے بچپن میں محلے کی چھتوں پہ اپنے دوستوں کیساتھ روایتی کھیل کھیلے۔

بارش میں محلے کے دوستوں کے ساتھ سڑکوں پر کرکٹ کھیلی.

بسنت کے موسم میں پتنگیں اڑائیں،(گڈے) لٹو بھی چلائے، گلی ڈنڈا بھی کھیلا، ڈیپو گرم بھی کھیلا اور اپنے والدین بہن بھائی اور رشتے داروں کے ساتھ کیرم، لڈو، بھی کھیلا. 
ہمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں۔

ہم وہ آخری لوگ ہیں 
جنہوں نے محلے کی لڑکیوں کے ساتھ بھی کھیلا جھولے بھی جھولے اور انکی گڑیوں کی شادی میں شرکت بھی کی. 

ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے لالٹین (بتی)کی روشنی میں کہانیاں بھی پڑھی۔
جنہوں نے اپنے پیاروں کیلیئے اپنے احساسات کو خط میں لکھ کر بھیجا۔

ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے ٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھا۔بلکہ گھر سے بوری ، توڑا لے کر سکول جاتے اور اس پر بیٹھتے۔

ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے بیلوں کو ہل چلاتے دیکھا۔

ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے مٹی کے گھڑوں کا پانی پیا۔بغیر بجلی کے ٹیوب ویل دیکھے نہائے محلے گاؤں کے درخت سے آم اور امرود بھی توڑ کر کھائے. 
پڑوس کے بزرگوں سے ڈانٹ بھی کھائی لیکن پلٹ کر کبھی بدمعاشی نہیں دکھائی. 

ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے عید کا چاند دیکھ کر تالیاں بجائیں۔اور گھر والوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے عید کارڈ بھی اپنے ہاتھوں سے لکھ کر بهیجے. 

ہمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں کیونکہ
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جو محلے کے ہر خوشی اور غم میں ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کے کھڑے ہوئے. 
ہم وہ لوگ ہیں جو گلے میں مفلر لٹکا کے خود کو بابو سمجھتے تھے۔

ہم وہ دلفریب لوگ ہیں
جنہوں نے شبنم اور ندیم کی ناکام محبت پہ آنسو بہائے اور انکل سرگم کو دیکھ کے خوش ہوئے ۔

ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے ٹی وی کے انٹینے ٹھیک کیے فلم دیکھنے کے لیے ہفتہ بھر انتظار کرتے تھے

ہم وہ بہترین لوگ ہیں
جنہوں نے تختی لکھنے کی سیاہی گاڑھی کی۔ جنہوں نے سکول کی گھنٹی بجانے کو اعزاز سمجھا۔

ہم وہ خوش نصیب لوگ ہیں
جنہوں نے رشتوں کی اصل مٹھاس دیکھی۔ ہمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں۔

ہم وہ لوگ ہیں جو۔
رات کو چارپائی گھر سے باہر لے جا کر کھلی فضاء زمینوں میں سوئے دن کو سب محلے والے گرمیوں میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر گپیں لگاتے مگر وہ آخری تھے ہم کبھی وہ بھی زمانے تھے
سب چھت پر سوتے تھے
اینٹوں پر پانی کا
چھڑکاؤ ہوتا تھا
ایک سٹینڈ والا پنکھا
بھی چھت پر ہوتا تھا
لڑنا جھگڑنا سب کا
اس بات پر ہوتا تھا
کہ پنکھے کے سامنے 
کس کی منجی نے ہونا تھا
سورجُ کے نکلتے ہی
آنکھ سب کی کھلتی تھی
ڈھیٹ بن کر پھر بھی
سب ہی سوئے رہتے تھے
وہ آدھی رات کو کبھی
بارش جو آتی تھی
پھر اگلے دن بھی منجی
گیلی ہی رہتی تھی 
وہ چھت پر سونے کے
سب دور ہی بیت گئے
منجیاں بھی ٹوٹ گئیں 
رشتے بھی چھوٹ گئے
بہت خوبصورت خالص رشتوں کا دور لوگ کم پڑھے لکھے اور مخلص ہوتے تھے اب زمانہ پڑھ لکھ گیا تو بے مروت مفادات اور خود غرضی میں کھو گیا۔
کیا زبردست پڑھا لکھا مگر دراصل جاہل زمانہ آ گیا













Post a Comment

Yahan Comments Karein

Previous Post Next Post