Tawaif se Behan Tak ایک کوٹھے پر رونما ہونے والا حیرت انگیز واقعہ

 Tawaif se Behan Tak
مجھے اس کا مجرا دیکھتے ہوئے مسلسل دسواں دن تھا۔ کیا غضب کی نئی چیز ہیرا منڈی میں آئی تھی۔ اس کا نام بلبل تھا۔ جب وہ ناچتی اور تھرکتی تھی تو جیسے سب تماش بین محو ہو جاتے۔ روزانہ اس کو ناچتا دیکھ کے میری شیطانی ہوس مزید پیاسی ہوتی جاتی اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس سے ضرور ملوں گا۔ میں ہر قیمت پر اسے حاصل کرنا چاہتا تھا۔اس دن مجرا کے دوران وہ بجھی بجھی سی دکھائی دے رہی تھی ۔ اس کے ناچ میں وہ روانی بھی نہیں تھی لیکن مجھے اس سے ملنا تھا، بات کرنی تھی اور معاملات طے کرنے تھے۔ مجرے کے اختتام پہ جب سب تماش بین چلے گئے تو میں بھی اٹھا۔ وہ کوٹھے کی بالکنی میں اپنی نائیکہ کے ساتھ کسی بات پر الجھ رہی تھی۔ دروازہ کے تھوڑا سا قریب ہوا تو میں نے سنا کہ وہ اس سے رو رو کر کچھ مزید رقم کا مطالبہ کر رہی تھی۔ مگر نائیکہ اسکو دھتکار رہی تھی اور آخر میں غصے میں وہ بلبل کو اگلے دن وقت پہ آنے کا کہ کر وہاں سے بڑبڑاتی ہوئی نکل گئی۔بلبل کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے، یہ جان کے میرے اندر خوشی کی اک لہر دوڑ گئی۔ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی کہ وہ ضرورت پوری کر کے میں اس کے ساتھ جو چاہے کر سکتا ہوں۔ میں اس کی جانب بڑھا، اس کا چہرہ دوسری طرف تھا اور وہ برقعہ پہن رہی تھی۔ پاس جا کر جب میں نے اسے پکارا تو وہ میری طرف مڑی۔ اسکا چہرہ آنسووں سے تر اور برف کی مانند ایسے سفید تھا جیسے کسی نے اس کا سارا خون نکال لیا ہو۔


اس کی یہ حالت دیکھ کر میں چکرا سا گیا اور اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ وہ ایسے کیوں رو رہی ہے؟
میری طرف دیکھتے ہوئے وہ چند لمحے خاموش رہی اور میرے دوبارہ پوچھنے پر گھٹی گھٹی آواز میں بولی "ماں مر گئی۔"
"کیا؟"
جب مجھے اسکی سمجھ نہیں آئی تو وہ بے اختیار روتے ہوئے دوبارہ بولی کہ "آج میری ماں مر گئی۔"
اس جواب سے جیسے میرے منہ کو تالا لگ گیا۔ میری شیطانی ہوس، جس کو پورا کرنے کے لیے میں اس کی جانب آیا تھا، مجھ سے میلوں دور بھاگ گئی۔
"تو تم یہاں کیا کر رہی ہو؟" میں نے غصے اور حیرت سے اس سے پوچھا۔
" کفن دفن کے پیسے نہیں ہیں میرے پاس۔ اس لئے میں مجرا کرنے آئی تھی۔ مگر نائیکہ آج پیسے ہی نہیں دے رہی۔ کہتی ہے بہت مندی ہے۔ تماش بین کوٹھے پر نہیں آتے۔ جو آتے ہیں وہ پہلے کی طرح کچھ لٹاتے نہیں۔ وہ کہہ رہی ہے کہ ایدھی والوں سے اپنی ماں کے کفن دفن کا انتظام کروا لو۔"
اتنا کہہ کے وہ برقعہ پہن کر کوٹھے سے باہر نکل آئی۔
میں بھی اسکے پیچھے چل پڑا،"میں تمھاری ماں کے کفن و دفن کا بندوبست کرتا ہوں۔"
وہ چند لمحے مجھے مشکوک نظروں سے دیکھتی رہی اور پھر خاموشی سے میرے ساتھ بیٹھ گئی۔ گاڑی ٹیکسالی سے باہر نکالتے ہوئے میں نے بلبل سے اس کے گھر کا پتہ پوچھا۔ وہ علاقہ میرے لیے نیا نہیں تھا کئی بار میں وہاں سے گزرا ہوا تھا۔ میں نے گاڑی اس طرف موڑ دی۔ سارا راستہ وہ خاموشی سے روتی رہی۔ میرے پاس اسکو تسلی دینے کے لیے الفاظ بھی نہیں تھے۔کچھ دیر میں ہم بلبل کے گھر پہنچ گئے۔ یہ چھوٹا سا ایک کمرے کا گھر تھا۔ صحن کے بیچ میں چارپائی پر اسکی ماں کی لاش ایک گدلے کمبل میں لپٹی پڑی تھی۔ صحن میں بلب کی پیلی روشنی وہاں بسنے والوں اور گھر کی حالت چیخ چیخ کر عیاں کر رہی تھی۔ چارپائی کے پاس دو بوڑھی عورتیں بیٹھی تھی ۔ ایک کی گود میں سات آٹھ ماہ کا بڑا گول مٹول اور پیارا سا بچہ کھیل رہا تھا۔ آدھی رات ہونے کو آئی تھی۔ جیسے ہی بلبل گھر میں داخل ہوئی، وہ بوڑھی عورتیں بچہ اسے سونپتے اور دیر آنے کی وجہ سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وہاں سے رخصت ہو گئیں۔ بلبل بچے کو لے کر کمرے کی طرف گئی۔ بچہ بہت بے قرار تھا اور پھر وہ اسکی چھاتی سے لپٹ گیا جیسے صبح سے بھوکا ہو۔
"کیا یہ بلبل کا بچہ ہے؟" یہ ایک نیا انکشاف تھا کہ بلبل شادی شدہ بھی ہے۔چند لمحوں بعد وہ کمرے سے باہر آئی مجھے یونہی کھڑا دیکھ کر پھر کمرے میں گئی اور اک پرانی کرسی اٹھا لائی۔
"سیٹھ جی! معذرت۔ میرے گھر میں آپ کو بیٹھانے کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔" وہ کرسی رکھتے ہوئے شرمندگی سے بولی۔میں سر ہلاتے ہوئے اس کرسی پر بیٹھ گیا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہاں سے شروع کروں۔


"تمھارا اصل نام کیا ہے بلبل؟" بالآخر میں نے اس سے پوچھا ۔وہ چپ رہی شاید بتانا نہیں چاہ رہی تھی
"افشاں"۔ میرے دوبارہ پوچھنے پر اس نے آہستہ سے کہا۔
" بہت افسوس ہوا تمھاری ماں کی وفات کا۔"
وہ خاموش رہی۔
"تمھارا باپ، بھائی کوئی ہے ؟"
اس نے خاموشی سے "نہیں" میں سر ہلایا۔
"یہ بچہ تمھارا ہے ؟"
اس نے پھر خاموشی سے "ہاں "میں سر ہلایا۔
"تمھارا شوہر کہاں ہے؟"
چند لمحوں بعد وہ بولی "چھوڑ گیا۔"
"تم ہیرا منڈی کیسے گئی تم مجھے ناچنے گانے والی تو نہیں لگتی؟
"اب وہ نظریں اٹھا کر مجھے دیکھتی ہوئی بولی، "سیٹھ جی قسمت وہاں لے گئی۔ گھر میں کوئی مرد نہیں تھا۔ ایک بیمار ماں اور بچے کی ذمہ داری تھی۔ کہیں اور کام نہیں ملا تو ناچاہتے ہوئے بھی مجبورا"یہ راستہ اختیار کرنا پڑا۔ کچھ عرصے تک نائیکہ نے ناچ گانا سکھایا اور پھر دھندے پر بیٹھا دیا۔۔ وہ مجھے مجرا کرنے کے روزانہ دو سو روپے دیتی ہے اور ساتھ میں تماش بینوں کا بچا کھچا کھانا، جو میں گھر لا کے اپنی ماں کو کھلاتی ہوں اور خود بھی کھاتی ہوں۔ برقعے میں آتی جاتی ہوں جس سے محلے میں کسی کو پتہ نہیں چلتا اور اک بھرم قائم ہے۔ سیٹھ جی، ایسی کتنی ہی بے سہارا گمنام لڑکیاں معاشی حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر ان کوٹھوں پر ناچنے پر مجبور ہیں۔ آپ لوگوں کو کیا پتہ وہ کتنی مجبور ہو کر یہ قدم اٹھاتی ہیں ۔ کوئی لڑکی اپنی خوشی سے یوں سب کے سامنے اپنا جسم، اپنی عزت نیلام نہیں کرتی۔ جو لڑکیاں اک بار اس دلدل میں گر پڑتی ہیں پھر وہ دھنستی ہی چلی جاتی ہیں ۔ اور پھر اس میں ہمیشہ کے لیے ڈوب جاتی ہیں۔" یہ سب کچھ بتاتے ہوئے افشاں کے لہجے میں بے بسی اور بے چارگی تھی جیسے وہ کسی ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہی ہو۔میں کچھ دیر اس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔ پھر پرس سے چند نوٹ نکالے اور اسکے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولا "کل اپنی ماں کی تدفین کروا لینا اور بچے کے لیے کچھ خوارک اور گھر کے لیے راشن پانی لے لینا۔"
وہ اتنے سارے نوٹ ایک ساتھ دیکھ کر حیران ہو گئی۔
"کیا ہوا؟" میں نے اس کو یوں چپ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"سیٹھ جی مجھے ان روپوں کے بدلے کیا کرنا ہو گا؟" وہ ڈرتے ڈرتے پوچھ رہی تھی۔ شاید یہ سوچ رہی تھی کہ ان نوٹوں کے بدلے سیٹھ پتہ نہیں کب تک اس کا جسم نوچے گا؟ کب تک اس کو سیٹھ کی رکھیل بن کر رہنا پڑے گا؟
اس کی بات سن کر مجھے اپنے آپ سے اتنی نفرت ہوئی کہ میں خواہش کرنے لگا کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔ مجھے احساس ہوا کہ میں ذلت اور اپنے کردار کی پستی کی آخری حد کو چھو رہا تھا۔ میں اس بے حس معاشرہ میں ایک تنہا اور بے سہارا لڑکی کی مدد کر رہا تھا مگر وہ اس کو بھی ایک ڈیل کے طور پر سمجھ رہی تھی۔ شاید جہاں سے میں اٹھ کر آیا تھا وہاں پر جانے والے لوگوں سے بغیر کسی وجہ کے مدد کی توقع نہیں کی جاتی۔


میں نے لرزتی آواز میں جواب دیا، "تمھیں کچھ نہیں کرنا پڑے گا۔ اور تم اب کوٹھے پر مجرا کرنے نہیں جاؤ گی۔ اپنے گھر میں رہو گی۔ ہر مہینے تمھیں منی آرڈر مل جایا کرے گا۔ تم نے کرنا بس یہ ہے کہ یہ جو بچہ تمھاری گود میں ہے اس کی تربیت ایسے کرو کہ یہ اک دن بڑا ہو کر تمھارا سہارا بن سکے ۔ یہ جو رقم میں بجھواؤں گا یہ تم پر قرض ہے اور جب تمھارا بیٹا جوان ہو جائے گا، ایک قابل انسان بن جائے گا تو تم مجھے واپس کر دینا۔افشاں حیران پریشان کھڑی مجھے دیکھ رہی تھی۔ اس انسان کو جس کے سامنے ابھی وہ ناچ کر آئی تھی وہ اس سے ایسی باتیں کر رہا تھا۔ پھر وہ بے آواز رو پڑی۔ مجھے سے وہاں رکا نہیں گیا۔ میں نے افشاں کے گھر کا پتہ لیا اور اس کو اپنا کیا وعدہ یاد دلا کر وہاں سے رخصت ہو گیا۔
سارے راستے میں یہی سوچتا رہا۔ "مجھے تم سے کچھ نہیں چاہے۔ مجھے تم سے کچھ نہیں چاہئے افشاں۔جو تم نے مجھے دیا ہے میں اس کا احسان ساری عمر نہیں اتار پاؤں گا۔ تم نے مجھ میں دفن اس انسانیت کو جگا دیا جو میں دولت اور شیطانی ہوس کے نیچے دبا کر مار چکا تھا۔ تم نے مجھے پھر سے انسان بنایا ہے افشاں۔"اس واقعے کے بعد میں ان تمام برے کاموں سے توبہ کر کے اس کی بارگاہ میں گناہوں کا بوجھ لیے حاضر ہوا۔ ہر روز اس کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا، اس سے معافی کی درخواست کرتا۔میں باقاعدگی سے ہر ماہ "افشاں" کو منی آڈر بجھواتا رہا۔ کئی دفعہ دل کیا میں اس مسیحا کو مل کر آؤں جس کی وجہ سے مجھے ان تمام گناہوں اور بدکاریوں سے نجات ملی۔ مگر ہر دفعہ اک شرمندگی آڑے آتی رہی کہ کبھی میں اپنی شیطانی ہوس کے لیے اس کا پیاسا تھا۔ اور پھر وقت گزرتا چلا گیا دن مہینوں میں بدلنے لگے اور مہینے سالوں میں تبدیل ہوتے گئے۔ مگر میں افشاں کو بھولا نہیں تھا۔ وہ بھی میری طرح بوڑھی ہو گئی ہو گی۔ اور اس کا بیٹا بھی جوان ہو گیا ہو گا۔ پتہ نہیں کسی قابل بنا ہو گا۔ اپنی ماں کا سہارا بنا ہو گا کہ نہیں؟
میرے بچے جوان ہو گئے تھے۔ زندگی اتار چڑھاؤ کے ساتھ مسلسل چل رہی تھی۔ ایک شام چھٹی کے دن جب میں اپنے گھر میں موجود تھا تو ملازم نے آکر مجھے بتایا کہ ایک عورت اور اسکے ساتھ ایک جوان لڑکا آپ سے ملنے آئے ہیں۔
"کون ہیں؟"
"معلوم نہیں صاحب پہلی بار ان کو دیکھا ہے۔" ملازم نے مودبانہ لہجے میں جواب دیا۔
"اچھا انہیں ڈرائینگ روم میں بٹھاؤ میں آرہا ہوں۔"
کون ہو سکتا ہے یہی سوچتے ہوئے میں ڈرائینگ روم کی طرف بڑھا۔
ایک عورت پرنور چہرہ کے ساتھ سفید بڑی چادر میں خود کو چھپائے ہوئے ہاتھ میں ایک پرانی سی ڈائری لیے کھڑی تھی۔ اور اس کے ساتھ اچھے کپڑوں میں ملبوس ایک بڑا ہینڈسم نوجوان کھڑا تھا۔ اس لڑکے کو میں جانتا تھا وہ ہمارے علاقے کا نیا ڈی ایس پی احمد تھا۔
"سلام سیٹھ جی میں افشاں ہوں اور یہ میرا بیٹا احمد ۔"
جونہی اس نے افشاں کا نام لیا میرے ذہن میں اسکا ماضی کا چہرہ گھوم گیا۔ اور پھر مجھے پہچاننے میں دیر نہیں لگی کہ وہ افشاں تھی۔


" آپ مجھے پہچان گئے ناں؟
میں نے سر ہلاتے ہوئے "ہاں" میں جواب دیا اور ان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔افشاں پھر اپنے بیٹے سے مخاطب ہو کر بولی۔ "احمد بیٹا یہی ہیں میرے مسیحا جن کی بدولت تمھاری ماں گندگی کی دلدل میں گرتے گرتے نکلی اور یہی ہیں جو تمھاری پڑھائی کا تمھیں یہاں اس مقام تک لانے کا ذریعہ ہیں ۔"
" میں انکو جانتا ہوں امی جان ان کا شمار علاقے کے معزز ترین افراد میں ہوتا ہے ۔ مگر میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے اس مقام پر لانے میں انکا کردار سب سے اہم ہے۔"
"سیٹھ صاحب جس طرح آپ ہم بے سہارا اور بے کس لوگوں کی زندگی میں مسیحا بن کر آئے اس کا احسان ہم کبھی نہیں بھولیں گے ۔" احمد بڑی مشکور نظروں سے دیکھتا ہوا بڑی عاجزی سے بول رہا تھا۔
"ایسے کہہ کر آپ لوگ مجھے شرمندہ مت کریں۔"
میں نے افشاں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ آج اسکو پکارتے ہوئے بے اختیار میرے منہ سے افشاں بہن نکل گیا۔ میں خود حیران تھا مگر یہ سچ تھا۔افشاں صوفے سے اٹھی اور آگے بڑھ کر پرانی سی ڈائری مجھے تھماتے ہوئے کہنے لگی، "سیٹھ جی اس میں وہ تمام حساب درج ہے ۔۔ میری ماں کی تدفین سے لے کر آپ کے آخری منی آڈر تک۔ میں نے اک اک پائی کا حساب رکھا۔ آپ کے دیے پیسوں کا امانت کے طور پر استعمال کیا۔ اپنے بیٹے کو ایک قابل انسان بنایا۔ آپ نے مجھے بائیس سال پہلے کہا تھا کہ یہ قرض ہے اور یہ تب واپس کرنا جب تمھارا بیٹا ایک قابل انسان بن جائے۔"
کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد افشاں پھر سے بولی، "سیٹھ جی آج وہ وقت آگیا ہے۔ میں آپ کے احسانوں کا بوجھ تو میں نہیں اتار سکتی مگر جو پیسے آپ نے مجھے دئیے تھے میرا بیٹا وہ ضرور اتارے گا۔ اور آپ سے درخواست ہے آپ انکار مت کریں۔"میں افشاں کو بڑی تحسین نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ آخر اس نے وہ کر ہی دکھایا۔ یقیناً قول و قرار کو نبھانا، وعدہ پر قائم رہنا اک اچھے کردار کے حامل انسان کی بڑی نشانی ہے۔ یہ سب سن کر میرے دل میں اسکی عزت اور احترام اور بڑھ گیا۔
"میں نے تم کو بہن کہا ہے افشاں بہن۔ اور میں کیسے تم سے یہ پیسے واپس لے سکتا ہوں۔ مجھے یوں شرمندہ مت کرو۔"
میرے رکے رکے الفاظ میں پیسے نہ لینے کی معذرت چھپی تھی۔ مگر وہ بضد تھی۔ مجھے اس کے سامنے ہار ماننا پڑی اور وہ تمام پیسے جو میں اسکو منی آڈر کی صورت میں بھیجتا تھا اس کو واپس لینے کی حامی بھرنی پڑی۔ پھر وہ دونوں مجھے اپنے نئے گھر کا پتہ دے کر اور آنے کی تاکید کر کے وہاں سے چلے گئے۔


"ارم میں نے تمہیں کسی سے ملوانا ہے میرے ساتھ چلو گی۔؟ " شام کو میں نے اپنی بیگم سے کہا۔
"کیوں نہیں چلوں گی۔ مگر کون ہے؟ اور کس سلسلے میں ملنا ہے؟" بیگم نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔
"میں نے روبی بیٹی کے لیے ایک لڑکا پسند کیا ہے ۔ تم مل لو اگر تم کو پسند آجائے تو پھر اس کے بعد روبی سے بات کر لینا۔" میں نے مختصر لفظوں میں اسے وجہ بتائی۔
اگلے دن میں اور میری بیگم ارم ناز افشاں کے گھر میں تھے۔ ارم کو بھی احمد بہت پسند آیا۔ ہم نے پھر افشاں سے احمد اور روبی کے رشتے کی بات کی۔ افشاں کو بھلا اس سے کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ وہ پھولے سے نہیں سما رہی تھی۔ اور یوں میری بیٹی کا رشتہ افشاں کے بیٹے احمد سے طے ہو گیا۔ وہ تعلق جو اک طوائف اور تماش بین جیسے گندے رشتے سے شروع ہوا تھا اس کا اختتام ایک نہایت مہذب رشتے کی شکل میں ہوا۔یہ سچ ہے کہ ہر انسان کو قدرت سدھرنے کا موقعہ ضرور دیتی ہے۔ کبھی گندگی کے ڈھیر سے اس کو ایسا سبق سیکھا دیتی ہے، کبھی دو بھٹکے لوگوں ملا کر سیدھے راہ پر لے آتی ہے اور انسان ساری زندگی اسی کے مطابق گزارنے کو فخر محسوس کرتا ہے۔ کبھی وہ طوائف اور میں تماش بین تھا۔ مگر آج وہ میری منہ بولی بہن اور اس کا بیٹا میری بیٹی 
کا شوہر ہے۔ اور مجھے ان دونوں رشتوں پر فخر ہے

Tawaif se Behan tak
woh tawaif aur mein tamash been tha. aik kothey par runuma honay wala herat angaiz waqia
mujhe is ka mujraa dekhte hue musalsal daswaan din tha. kya gazabb ki nai cheez heera manndi mein aayi thi. is ka naam bulbul tha. jab woh naachti aur tharakti thi to jaisay sab tamash bain mehv ho jatay. rozana is ko naachta dekh ke meri shaytani hawas mazeed pyasii hoti jati aur mein ne faisla kar liya ke is se zaroor milon ga. mein har qeemat par usay haasil karna chahta tha. is din mujraa ke douran woh bujhi bujhi si dikhayi day rahi thi. is ke naach mein woh ravani bhi nahi thi lekin mujhe is se milna tha, baat karni thi aur mamlaat tey karne they. mujray ke ekhtataam pay jab sab tamash bain chalay gay to mein bhi utha. woh kothey ki baalkani mein apni naika ke sath kisi baat par ulajh rahi thi. darwaaza ke thora sa qareeb sun-hwa to mein ne suna ke woh is se ro ro kar kuch mazeed raqam ka mutalba kar rahi thi. magar naika usko dhtkar rahi thi aur aakhir mein ghusse mein woh bulbul ko aglay din waqt pay anay ka ke kar wahan se bar brahti hui nikal gayi. bulbul ko paison ki ashad zaroorat hai, yeh jaan ke mere andar khusi ki ik lehar daud gayi. chehray par shaytani muskurahat phail gayi ke woh zaroorat poori kar ke mein is ke sath jo chahay kar sakta hon. mein is ki janib barha, is ka chehra doosri taraf tha aur woh burqa pehan rahi thi. paas ja kar jab mein ne usay puraka to woh meri taraf muri. uska chehra aansoun se tar aur barf ki manind aisay safaid tha jaisay kisi ne is ka sara khoon nikaal liya ho .
is ki yeh haalat dekh kar mein chakra sa gaya aur is se poocha ke kya sun-hwa hai? woh aisay kyun ro rahi hai ?                     mazeed kahaniyan parhne ke liye yahan click karein
meri taraf dekhte hue woh chand lamhay khamosh rahi aur mere dobarah poochnay par ghatti ghatti aawaz mein boli" maa mar gayi. "
" kya? "
jab mujhe uski samajh nahi aayi to woh be ikhtiyar rotay hue dobarah boli ke" aaj meri maa mar gayi. "
is jawab se jaisay mere mun ko tala lag gaya. meri shaytani hawas, jis ko poora karne ke liye mein is ki janib aaya tha, mujh se mailon daur bhaag gayi .
" to tum yahan kya kar rahi ho ?" mein ne ghusse aur herat se is se poocha .
" kafan dafan ke pesey nahi hain mere paas. is liye mein mujraa karne aayi thi. magar naika aaj pesey hi nahi day rahi. kehti hai bohat mandi hai. tamash bain kothey par nahi atay. jo atay hain woh pehlay ki terhan kuch lutatay nahi. woh keh rahi hai ke edhi walon se apni maa ke kafan dafan ka intizam karwa lau. "
itna keh ke woh burqa pehan kar kothey se bahar nikal aayi .
mein bhi uskay peechay chal para," mein tumhari maa ke kafan o dafan ka bandobast karta hon. "
woh chand lamhay mujhe mashkook nazron se dekhatii rahi aur phir khamoshi se mere sath baith gayi. gaari taxsaali se bahar nikaltay hue mein ne bulbul se is ke ghar ka pata poocha. woh ilaqa mere liye naya nahi tha kayi baar mein wahan se guzra sun-hwa tha. mein ne gaari is taraf mourr di. sara rasta woh khamoshi se roti rahi. mere paas usko tasalii dainay ke liye alfaaz bhi nahi they. kuch der mein hum bulbul ke ghar poanch gay. yeh chhota sa aik kamray ka ghar tha. sehan ke beech mein charpayee par uski maa ki laash aik gadlay kambal mein lipti pari thi. sehan mein bulb ki peeli roshni wahan basnay walon aur ghar ki haalat cheekh cheekh kar ayaan kar rahi thi. charpayee ke paas do boorhi aurtain baithi thi. aik ki goad mein saat aath mah ka bara gole matol aur pyara sa bacha khail raha tha. aadhi raat honay ko aayi thi. jaisay hi bulbul ghar mein daakhil hui, woh boorhi aurtain bacha usay sonpy aur der anay ki wajah se narazgi ka izhaar karte hue wahan se rukhsat ho gayeen. bulbul bachay ko le kar kamray ki taraf gayi. bacha bohat be qarar tha aur phir woh uski chhaati se lapat gaya jaisay subah se bhooka ho .
" kya yeh bulbul ka bacha hai ?" yeh aik naya inkishaaf tha ke bulbul shadi shuda bhi hai. chand lamhoon baad woh kamray se bahar aayi mujhe yuhin khara dekh kar phir kamray mein gayi aur ik purani kursi utha layi .
" sith jee! moazrat. mere ghar mein aap ko bithane ke liye koi cheez nahi hai." woh kursi rakhtay hue sharmindagi se boli. mein sir hilaate hue is kursi par baith gaya. kuch samajh nahi aa raha tha kahan se shuru karoon .
" tumahra asal naam kya hai bulbul ?" bil akhir mein ne is se poocha. woh chup rahi shayad batana nahi chaah rahi thi
" afshaan ". mere dobarah poochnay par is ne aahista se kaha .
" bohat afsos hwa tumhari maa ki wafaat ka. "
woh khamosh rahi .                                 mazeed kahaniyan parhne ke liye yahan click karein
" tumahra baap, bhai koi hai? "
is ne khamoshi se" nahi" mein sir hilaya .
" yeh bacha tumahra hai? "
is ne phir khamoshi se" haan" mein sir hilaya .
" tumahra shohar kahan hai? "
chand lamhoon baad woh boli" chore gaya. "
" tum heera manndi kaisay gayi tum mujhe nachnay ganay wali to nahi lagti ?
" ab woh nazrain utha kar mujhe dekhatii hui boli," sith jee qismat wahan le gayi. ghar mein koi mard nahi tha. aik bemaar maa aur bachay ki zimma daari thi. kahin aur kaam nahi mila to na chaty hue bhi majboron" yeh rasta ikhtiyar karna para. kuch arsay taq naika ne naach gana sikhaya aur phir dhnde par betha diya. . woh mujhe mujraa karne ke rozana do so rupay deti hai aur sath mein tamash beeno ka bacha khicha khana, jo mein ghar laa ke apni maa ko khilaati hon aur khud bhi khati hon. burqay mein aati jati hon jis se muhallay mein kisi ko pata nahi chalta aur ik bharam qaim hai. sith jee, aisi kitni hi be sahara gumnaam larkiyan muashi halaat ke hathon majaboor ho kar un kothon par nachnay par majaboor hain. aap logon ko kya pata woh kitni majaboor ho kar yeh qadam uthaati hain. koi larki apni khusi se yun sab ke samnay apna jism, apni izzat nelaam nahi karti. jo larkiyan ik baar is duldul mein gir padtee hain phir woh dhansti hi chali jati hain. aur phir is mein hamesha ke liye doob jati hain." yeh sab kuch batatay hue afshaan ke lehjey mein be basi aur be chaargi thi jaisay woh kisi nakarda gunaaho ki saza kaat rahi ho. mein kuch der is ke chehray ko daikhta raha. phir purse se chand note nikalay aur uskay haath mein thamate hue bola" kal apni maa ki tadfeen karwa lena aur bachay ke liye kuch khwark aur ghar ke liye ration pani le lena. "
woh itnay saaray note aik sath dekh kar heran ho gayi .
" kya sun-hwa ?" mein ne is ko yun chup dekhte hue poocha .
" sith jee mujhe un rupoo ke badlay kya karna ho ga ?" woh drtay drtay pooch rahi thi. shayad yeh soch rahi thi ke un noton ke badlay sith pata nahi kab taq is ka jism noche ga? kab taq is ko sith ki rakhil ban kar rehna parre ga ?
is ki baat sun kar mujhe –apne aap se itni nafrat hui ke mein khwahish karne laga ke zameen phatt jaye aur mein is mein sama jaoon. mujhe ehsas sun-hwa ke mein zillat aur –apne kirdaar ki pasti ki aakhri hadd ko chhoo raha tha. mein is be hiss muashra mein aik tanha aur be sahara larki ki madad kar raha tha magar woh is ko bhi aik deal ke tor par samajh rahi thi. shayad jahan se mein uth kar aaya tha wahan par janay walay logon se baghair kisi wajah ke madad ki tawaqqa nahi ki jati .
mein ne larazti aawaz mein jawab diya," tumhen kuch nahi karna parre ga. aur tum ab kothey par mujraa karne nahi jao gi. –apne ghar mein raho gi. har mahinay tumhen money order mil jaya kere ga. tum ne karna bas yeh hai ke yeh jo bacha tumhari goad mein hai is ki tarbiyat aisay karo ke yeh ik din bara ho kar tumahra sahara ban sakay. yeh jo raqam mein bejhwaon ga yeh tum par karzzzz hai aur jab tumahra beta jawan ho jaye ga, aik qabil ensaan ban jaye ga to tum mujhe wapas kar dena. afshaan heran pareshan khari mujhe dekh rahi thi. is ensaan ko jis ke samnay abhi woh naach kar aayi thi woh is se aisi baatein kar raha tha. phir woh be aawaz ro pari. mujhe se wahan ruka nahi gaya. mein ne afshaan ke ghar ka pata liya aur is ko apna kya wada yaad dila kar wahan se rukhsat ho gaya .                                 mazeed kahaniyan parhne ke liye yahan click karein
saaray rastay mein yahi sochta raha." mujhe tum se kuch nahi chahay. mujhe tum se kuch nahi chahiye afshaan. jo tum ne mujhe diya hai mein is ka ahsaan saari Umar nahi utaar paon ga. tum ne mujh mein dafan is insaaniyat ko jaga diya jo mein doulat aur shaytani hawas ke neechay daba kar maar chuka tha. tum ne mujhe phir se ensaan banaya hai afshaan." is waqeye ke baad mein un tamam buray kamon se tauba kar ke is ki bargaah mein gunaaho ka boojh liye haazir sun-hwa. har roz is ke samnay –apne gunaaho ka aitraaf karta, is se maffi ki darkhwast karta. mein baqaidagi se har mah" afshaan" ko money aadr bejhwata raha. kayi dafaa dil kya mein is masiihaa ko mil kar aon jis ki wajah se mujhe un tamam gunaaho aur badkario se nijaat mili. magar har dafaa ik sharmindagi aade aati rahi ke kabhi mein apni shaytani hawas ke liye is ka piyasa tha. aur phir waqt guzarta chala gaya din mahino mein badalny lagey aur mahinay saloon mein tabdeel hotay gay. magar mein afshaan ko bhola nahi tha. woh bhi meri terhan boorhi ho gayi ho gi. aur is ka beta bhi jawan ho gaya ho ga. pata nahi kisi qabil bana ho ga. apni maa ka sahara bana ho ga ke nahi ?
mere bachay jawan ho gay they. zindagi utaar charhao ke sath musalsal chal rahi thi. aik shaam chhutti ke din jab mein –apne ghar mein mojood tha to mulazim ne aakar mujhe bataya ke aik aurat aur uskay sath aik jawan larka aap se milnay aeye hain .
" kon hain? "
" maloom nahi sahib pehli baar un ko dekha hai." mulazim ne moudbana lehjey mein jawab diya .
" acha inhen draying room mein bithao mein araha hon. "
kon ho sakta hai yahi sochte hue mein draying room ki taraf barha .
aik aurat Purnoor chehra ke sath safaid barri chadar mein khud ko chupaye hue haath mein aik purani si diary liye khari thi. aur is ke sath achay kapron mein malbos aik bara handsome nojawan khara tha. is larke ko mein jaanta tha woh hamaray ilaqay ka naya DSP Ahmed tha...
 salam sith jee mein afshaan hon aur yeh mera beta Ahmed . "
jounhi is ne afshaan ka naam liya mere zehen mein uska maazi ka chehra ghoom gaya. aur phir mujhe pehchanney mein der nahi lagi ke woh afshaan thi .
" aap mujhe pehchan gay naan ?
mein ne sir hilaate hue" haan" mein jawab diya aur un ko bethnay ka ishara kya. afshaan phir –apne betay se mukhatib ho kar boli." Ahmed beta yahi hain mere masiihaa jin ki badolat tumhari maa gandagi ki duldul mein girtay girtay niklee aur yahi hain jo tumhari parhai ka tumhen yahan is maqam taq laane ka zareya hain. "
" mein unko jaanta hon ammi jaan un ka shumaar ilaqay ke Muaziz tareen afraad mein hota hai. magar mein yeh nahi jaanta tha ke mujhe is maqam par laane mein inka kirdaar sab se ahem hai. "
" sith sahib jis terhan aap hum be sahara aur be kis logon ki zindagi mein masiihaa ban kar aeye is ka ahsaan hum kabhi nahi bhoolain ge." Ahmed barri mashkoor nazron se daikhta sun-hwa barri aajzi se bol raha tha .
" aisay keh kar aap log mujhe sharminda mat karen. "
mein ne afshaan ki taraf dekhte hue kaha. aaj usko pkarte hue be ikhtiyar mere mun se afshaan behan nikal gaya. mein khud heran tha magar yeh sach tha. afshaan sofay se uthi aur agay barh kar purani si diary mujhe thamate hue kehnay lagi," sith jee is mein woh tamam hisaab darj hai. . meri maa ki tadfeen se le kar aap ke aakhri money aadr taq. mein ne ik ik payi ka hisaab rakha. aap ke diye paison ka amanat ke tor par istemaal kya. –apne betay ko aik qabil ensaan banaya. aap ne mujhe baaes saal pehlay kaha tha ke yeh karzzzz hai aur yeh tab wapas karna jab tumahra beta aik qabil ensaan ban jaye. "                     mazeed kahaniyan parhne ke liye yahan click karein
kuch lamhay khamosh rehne ke baad afshaan phir se boli," sith jee aaj woh waqt agaya hai. mein aap ke ehsaanon ka boojh to mein nahi utaar sakti magar jo pesey aap ne mujhe diye they mera beta woh zaroor utaarey ga. aur aap se darkhwast hai aap inkaar mat karen." mein afshaan ko barri tehseen nazron se dekh raha tha. aakhir is ne woh kar hi dekhaya. yaqeenan qoul o qarar ko nibhana, wada par qaim rehna ik achay kirdaar ke haamil ensaan ki barri nishani hai. yeh sab sun kar mere dil mein uski izzat aur ehtram aur barh gaya .
" mein ne tum ko behan kaha hai afshaan behan. aur mein kaisay tum se yeh pesey wapas le sakta hon. mujhe yun sharminda mat karo. "
mere ruke ruke alfaaz mein pesey nah lainay ki moazrat chhupi thi. magar woh bazid thi. mujhe is ke samnay haar maanna pari aur woh tamam pesey jo mein usko money aadr ki soorat mein bhejta tha is ko wapas lainay ki haami bhrni pari. phir woh dono mujhe –apne naye ghar ka pata day kar aur anay ki takeed kar ke wahan se chalay gay .
" Iram mein ne tumhe kisi se milwana hai mere sath chalo gi. ?" shaam ko mein ne apni begum se kaha .
" kyun nahi chaloon gi. magar kon hai? aur kis silsilay mein milna hai ?" begum ne salawon ki bochhaar kar di .
" mein ne ruby beti ke liye aik larka pasand kya hai. tum mil lau agar tum ko pasand aajay to phir is ke baad ruby se baat kar lena." mein ne mukhtasir lafzon mein usay wajah batayi .
aglay din mein aur meri begum Iram naz afshaan ke ghar mein they. Iram ko bhi Ahmed bohat pasand aaya. hum ne phir afshaan se Ahmed aur ruby ke rishte ki baat ki. afshaan ko bhala is se kya aitraaz ho sakta tha. woh phoolay se nahi sama rahi thi. aur yun meri beti ka rishta afshaan ke betay Ahmed se tey ho gaya. woh talluq jo ik tawaif aur tamash bain jaisay ganday rishte se shuru sun-hwa tha is ka ekhtataam aik nihayat mohazab rishte ki shakal mein sun-hwa. yeh sach hai ke har ensaan ko qudrat sdhrne ka moqa zaroor deti hai. kabhi gandagi ke dhair se is ko aisa sabaq seekha deti hai, kabhi do bhatkay logon mila kar seedhay raah par le aati hai aur ensaan saari zindagi isi ke mutabiq guzaarne ko fakhr mehsoos karta hai. kabhi woh tawaif aur mein tamash been tha. magar aaj woh meri mun boli behan aur is ka beta meri beti ka shohar , aur mjhe in dono rishto per fakhr hai
Previous Post Next Post