سورہ رحمٰن


 “ السّلام علیکم و رحمة الله و برکاتہ “
فضیلت درود پاک:

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

سورہ احزاب۔ آیت نمبر 56۔ ترجمہ کنزالعرفان 

درود ابراہیمی

اس لیے آپ بھی ایک بار درود پاک پڑھ لیجیے

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ


جمعہ اسپیشل

سورہ رحمٰن

قرآن پاک اللہ کی آخری کتاب ہے ،جو حضرت محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے ۔یوں تو اللہ رب العزت نے سورہ البقرہ کی ابتدا ئی آیات میں فرمایا ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ،یعنی یہ ہر شک سے بالاتر ہے ۔اور اس میں لکھی ہو ئی ہر بات سچ ہے ۔قرآن کا موضوع انسان ہے یہی وجہ ہے کہ اس میں انسانوں کے لئے ہدایت کے ساتھ ساتھ شفا بھی رکھی گئی ہے ۔سورہ رحمن انہیں میں سے ایک ہے ۔ اسے عروسہ القرآن بھی کہا جاتا ہے۔

اس سورہ مبارکہ میں اللہ رب العزت نے اپنی نعمتوں کا ذکر فرما کر کہا کہ تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں جھٹلاؤ گے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سورہ اپنے اندر شفا کا خزانہ رکھتی ہے ۔اسی لئے سائنس دانوں ، ماہرینِ طب اور معالجین کی خصوصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور اس میں پوشیدہ شفایابی کی طاقت نے تحقیق کے نئے دروازے وا کر دیے ہیں۔

ماہرینِ طب نے مہلک امراض میں مبتلا مریضوں کو سات دن تک سورہ رحمٰن سے علاج کرانے کی تجویز دیتے ہوئے اس طریقِ علاج کو تما م اسپتالوں میں رائج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سورہ رحمٰن کے انسانی دماغ ، خلیات او بیکٹیریاپر بہت گہرے اثرات پڑتے ہیں۔ سرطان سمیت دیگر مہلک امراض میں مبتلا مریضوں کی سورہٴ رحمٰن سے شفایابی کے زبر دست نتائج سامنے آرہے ہیں۔

سورہ رحمٰن انسانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم تحفہ ہے۔ قرآن کریم کا ہر حرف خیرو برکت اور شفایابی کی لہروں پر مشتمل ہے۔یہ لہریں جب پانی میں جذب ہو کر جسم میں داخل ہوتی ہیں تو اپنے خاص اثرات مرتب کرتی ہیں اور اس طرح بیماری رفتہ رفتہ دم توڑنے لگتی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ دل ہر طرح کی نفرت سے پاک ہو اس میں کسی کے لئے کوئی برائی نہ ہو۔ایسا کرنے سے بیماری کی شدت نہ صرف کم ہوگی بلکہ وہ خود کو ہلکا بھی محسوس کریں گے۔

Post a Comment

Yahan Comments Karein

Previous Post Next Post